منگل، 15 ستمبر، 2026

(کیاحضور صلی اللہ علیہ وسلم کابول مبارک کسی نےپیاہے؟)

 

  (کیاحضور صلی اللہ علیہ وسلم کابول مبارک کسی نےپیاہے؟)

السلام  علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلہ کے بارے میں کہ کیا کسی صحابی یا صحابیہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بول مبارک پیا ہے؟ براے مہربانی حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں

المستفتی: ایم ایس رضوی

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

                {بسم اللّٰه الرّحمٰن الرّحیم}

الجواب بعون الملک الوھاب

 جس طرح نبی اکرم ﷺ کے جسم اطہر سے برآمد ہونے والے باقی فضلات خوشبودار اور متبرک تھیں اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے جسم اطہر سے برآمد ہونے والا بول بھی متبرک تھا۔ چنانچہ بعض روایات میں بعض صحابہ یا صحابیات کے بول مبارک سے برکت حاصل کرنے کا ذکر ملتا ہے۔

      ”مجمع الزوائد“میں حافظ نور الدین علی بن ابوبکر ہیثمی تحریر فرماتے ہیں:”وعن حکیمۃ بنت أمیمۃ عن أمھا قالت : کان للنبی ﷺ قدح من عید ان یبول فیہ ویضعہ تحت سریرہ، فقام فطلبه فلم یجدہ ، فسال ، فقال :این القدح ؟ قالوا: شربتہ برۃ خادم أم سلمۃ قدمت معھا من أرض الحبشۃ ، فقال النبی ﷺ:لقد احتظرت من النار بحظار”ترجمہ: حضرت حکیمہ بنت أمیمہ نے اپنی والدہ سے روایت فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لکڑی کا برتن  تھا جس میں بول مبارک فرمایا کرتے تھےاور وہ ان کی چارپائی کے نیچے رکھا ہوتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اسے تلاش کیا تو نہ پایا تو پوچھا: برتن کہاں ہے؟  گھر والوں نے کہا: وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ  ،برہ ،جو ان کے ساتھ حبشہ سے آئیں ، انہوں نے پی لیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے جہنم سے آڑ بنا لی۔(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد،کتاب علامات النبوۃ، حدیث نمبر14014جلد 8،صفحہ ۳۴۶، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت-لبنان)

        اسی میں ہے:عن أم أیمن: قام النبى ﷺ من اللیل الى فخارة من جانب البیت فبال فیھا فقمت من اللیل وانا عطشى فشربت من فى الفخارة وانا لا اشعر فلما أصبح النبى ﷺ قال یا أم أیمن قومى الى تلك الفخارة فاھریقى ما فیھا قلت قد واللّٰه شربت ما فیھا قال فضحك رسول اللّٰه صلى اللّٰه علیه وسلم حتى بدت نواجذة ثم قال اما انك لا یفجع بطنك بعده ابدا.

ترجمہ: رسول اﷲ نے گھر کے ایک جانب مٹی کا ایک برتن رکھا ہوا تھا اور آپ رات کو اٹھ کر اس میں بول مبارک کرتے تھے ایک رات میں اٹھی مجھے پیاس لگنے کی بنا پر میں نے اس برتن سے پی لیا اور مجھے پتا نہیں چلا (کہ یہ بول مبارک ہے) جب صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ام ایمن: اس مٹی کے برتن کو اٹھاؤ اور اس میں جو کچھ ہے اس کو پھینک دو میں نے کہا اللہ کی قسم! اس میں جو کچھ تھا اس کو میں نے پی لیا تو رسول اللہ ﷺ ہنسے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر آپ نے فرمایا سنو! اس کے بعد کبھی تمہارے پیٹ میں درد نہیں ہوگا۔(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد،کتاب علامات النبوۃ، حدیث نمبر١۴۰۱۵، جلد ۸، صفحہ ۳۴۷، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت-لبنا)واللہ اعلم بالصواب

کتبه: عبد الوکیل صدیقی نقشبندی بینگٹی پھلودی راجستھان۔

خادم: الجامعۃ المظھریۃ فلودی راجستھان (الھند)۔

٣٠ ربیع الأول ۱۴۴۸ھجری۔ ۱۳ دسمبر ۲۰۲۶ عیسوی۔ بروز اتوار


ایک تبصرہ شائع کریں

Whatsapp Button works on Mobile Device only